سلطان رکن الدین بیبرس اور برکے خان

تاریخ میں کئی واقعات ایسے ہیں کہ جن کے رونماء ہونے کے سبب کچھ ایسا منظر نامہ بنا جس نے یکایک تاریخ کا دھارا
موڑ دیا۔  دمشق میں سلیمان بن عبدالمالک کا مسندِ خلافت سنبھالنا اور اس کے نتیجے میں قتیبہ بن مسلم کا چین کی سرحدوں سے ، طارق بن زیاد کا فرانس سے، اور محمد بن قاسم کا فتح سندھ کے بعد پلٹ جانا اس کی ایک مثال ہے۔ بعد میں اگرچہ ترک اور افغان فاتحین کے ذریعے ہندوستان میں تو اسلام پہنچ گیا مگر چین اور فرانس کی سرحدوں سے واپسی کے بعد عالم اسلام کی سرحدیں چودہ سو سال کے بعد بھی کاشغر(مشرقی ترکستان) سے آگے نہ بڑھ سکیں اور نہ read more…https://ilmstore.site/wp-admin/post.php?ہی یورپ عالم اسلام میں شامل ہوسکا۔

اس کے علاوہ جنگ انقرہ میں تیموریوں کے ہاتھوں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کی افسوس ناک شکست اور گرفتاری بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا کہ جس نے یکایک تاریخ  کا رخ موڑ دیا اور اس کے نتیجے میں پورے یورپ کی تسخیر کی خواہش عثمانی ترکوں کا خواب بن کر رہ گئی۔

اگر 1815ء میں واٹر لو کے میدان میں نپولین کو شکست نہ ہوتی تو شاید دنیا کو جنگ عظیم اول اور دوم کی تباہ کاری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

25رمضان المبارک 658ء بمطابق1260ء کو مصر اور شام کے درمیان واقع عین جالوت کے مقام پر پیش آئی اور جس کے نتیجے میں عالم اسلام جو بظاہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا وہ مکمل بربادی سے بچ گیا، عامۃ الناس کو تو چھوڑیں ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی ’’معرکہ عین جالوت‘‘ اور اس کے ہیرو ’’سلطان رکن الدین بیبرس‘‘ جو کے قیچاق ترک تھا اور ‘برکے خان’ جو منگول ترک تھا ان کے بارے میں بہت کم واقفیت رکھتا ہے۔ ترک زرد نسل یا منگول نسل کی جانب منسوب ہیں ۔ حالانکہ اس معرکہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف عالم اسلام کو سیاسی طور پر نئی زندگی ملی بلکہ https://en.wikipedia.org/wiki/Baybars](https://en.wikipedia.org/wiki/Baybars)Read moreحرمین شریفین کی حرمت کو لاحق شدید ترین خطرہ بھی ٹل گیا۔

تیرھویں صدی عیسوی کا سیاسی منظر نامہ

معرکہ عین جالوت کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے تیرویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھنا پڑے گا ۔ یہ صدی عالم اسلام کے لئے نہایت پر آشوب تھی

اور اس صدی میں جتنے مسلمان شہید ہوئے اتنے شاید نہ اس سے پہلے شہید ہوئے نہ اس کے بعد آج تک (دور جدید میں اکیسوی صدی عیسوی کا آغاز اگر چہ اب تک مسلمانوں کے لیے کچھ ایسی ہی صورت حال لیے ہوئے ہے)

تیرھویں صدی عیسوی میں منگولیا سے اٹھنے والا طوفان بلاخیز ایک کروڑ مسلمانوں کو بہا کر لے گیا۔  چنگیز خان نے پہلے تو چین کی عظیم تاریخی سلطنت کو ختم کیا پھر اس نے ماوراء النہر کے علاقوں کا رُخ کرتے ہوئے سمرقند، بخارا، تاشقند، مرو اور نسا سے لے کر خراسان کے علاقے ہرات تک اور نیشاپور سے لے کر دریائے سندھ کے ساحلی علاقوں تک تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کیں وسطی ایشیا اور چین کے بعد مشرقی یورپ اور روس کے علاقے چنگیز خان کا شکار بنے چنگیز خان کی وفات کے بعد اوکتائی خان اس کا جانشین بنا۔ 

1246ء میں اوکتائی خان کا بیٹا گیوک خان تیسرا خاقان اعظم منتخب ہوا اور 1251ء میں منگو خان جو تولی خان کا بیٹا تھا وہ چوتھا خاقان بنا۔ خاقان کی تبدیلیوں کے باوجود بھی ترک “منگول” سلطنت کے حملے ارد گرد کے علاقوں میں جاری رہے اور اب ان کا نشانہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری قومیں بھی بننے لگیں جن میں یورپی اور روسی قومیں بھی شامل تھیں ہلاکو خان نے منگوخان کے گورنر کی حیثیت سے بغداد پر حملہ کرکے خلافت عباسیہ کا خاتمہ کردیا۔

 بغداد کے ساتھ ساتھ موصل ، حلب اور دمشق بھی ہلاکو خان کے ہاتھوں فتح ہوگئے۔ دمشق کے سوا (وہاں کے حاکم نے ہلاکو خان سے معاہدہ کرلیا تھا) عراق اور شام کے اکثر شہروں کو بغداد جیسی قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح تاتاری یلغار وسطی ایشیا سے نکل کر ایران، افغانستان، چین، روس اور ہندوستان کے اکثر علاقوں، مشرقی یورپ، شام، فلسطین، اور عراق کو نگل کر مصر کے دروازے تک پہنچ گئی۔ 1241ء میں ترک منگولوں نے لاہور پر حملہ کرتے ہوئے اس شہر کو بھی تخت و تاراج کردیا۔ باتو خان بلغاریہ پر قبضہ کرچکا تھا اور اس نے لائگنٹز کے میدان میں جرمنوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اسی سال ترک منگولوں نے شاہ ہنگری کو بھی شکست دے دی۔ مختصر یہ کہ تیرہویں صدی عیسوی کے وسط میں منگول وسطی ایشیا سے نکل کر چاروں طرف پھیل گئے تھے اور ہر طرف ان کی قتل و غارت گری اور فتوحات جاری تھیں۔ منگول سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی مگر منگولیا کا خان اب بھی پوری سلطنت کا حکمران سمجھا جاتا تھا۔

ایسے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے ٹڈی دل لشکر کے ہمراہ عراق، شام، فلسطین کے شہروں کو فتح کرکے مصر پر حملہ آور ہوگیا۔ مصر کے بعد اب براہ راست منگول خطرہ حجاز کی مقدس سرزمین کے سامنے آگیا تھا جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر آباد تھے۔ یعنی اگر ہلاکو خان مصر کو بھی فتح کرلیتا تو اس کے بعد حجاز کے مقدس مقامات تک اس کی راہ میں کوئی قابل ذکر حکومت نہیں تھی۔

   

1260ء بمطابق 658ھ کے رمضان المبارک میں مصر اور شام کے سرحدی علاقے ’’عین جالوت‘‘ کے مقام کو ہلاکو خان کی تین لاکھ فوج مصر کے مملوک سلطان کے بیس ہزار کے مختصر سے دستے کے سامنے کھڑی تھی۔

مصر کے ترک مملوک سلطان

تیرہویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامے کے بعد مملوک سلطنت کا کچھ تعارف حاصل کرتے ہیں جو نہ صرف بغداد کی خلافت ختم ہونے کے بعد قاہرہ کی عباسی خلافت کی شکل میں عالم اسلام کا مرکز قرار پائی، بلکہ تین سو سال تک صلیبی حملہ آواروں کے سامنے بیت المقدس کا دفاع کرتی رہی۔

اسلامی تاریخ کی خاصیت ہے کہ مسلمانوں نے غلاموں کے ساتھ کبھی بھی وہ سلوک روا نہیں رکھا جو رومیوں کے زمانے سے لے کر پچھلی صدی تک مغربی ممالک میں کیا گیا۔ اسلامی معاشرے میں غلاموں کو برابری کا درجہ دینے کے نتیجے میں غلام دینی اور دنیاوی سطح پر ترقی کے بلندترین مقام تک پہنچے۔

مصر کے مملوک سلطان اور ہندوستان کا خاندان غلاماں ان غلام سرداروں پر مشتمل تھا جو ترقی کرتے کرتے حاکم وقت بن گئے ۔ مصر میں بحری اور برمی مملوک حکمرانوں نے تین سو سال تک حکومت کی۔ ان سلاطین میں جانشینی کے وقت سخت کشمکش ہوتی اور طاقتور غلام امیر سلطان بن جاتا۔ یعنی ان میں جانشین کے طور پر بیٹا حکومت نہیں حاصل کرپاتا تھا۔

سلطان رکن الادین بیبرس

1223ء میں خوارزم شاہ کے ایک درباری کے گھر بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام محمود رکھا گیا۔ 

ترک سلطان خوارزم شاہ کسی بات پر اس درباری سے خفا ہوگیا اور اسے قید کرلیا گیا۔ اس طرح یہ اعلیٰ خاندان گردش میں آگیا۔ اسی دوران خوارزم کی سلطنت چنگیزی حملوں کی زد میں آکر تباہ ہوگئی اور تاتاریوں نے مسلمان بچوں اور جوانوں کو قید کرکے غلام بنا کر فروخت کرنا شروع کردیا۔ محمود بھی انہی بچوں کی طرح غلام بن کر مختلف ہاتھوں فروخت ہوتا رہا اور آخر میں مصر کے بازار میں فروخت کیلئے لایا گیا۔ مصر میں مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے،  فاطمہ نامی ایک نیک خصت خاتون کی تحویل میں آگیا۔ فاطمہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا نام بیبرس تھا۔ محمود کی شکل اس لڑکے بیبرس سے ملتی تھی چنانچہ فاطمہ نے محمود کا نام بدل کر بیبرس رکھ دیا اور اسے اپنا بیٹا بنالیا۔ فاطمہ کا ایک بھائی مصر کے سلطان الملک صالح نجم الدین کے دربار سے منسلک تھا۔ اس کی ملاقات جب بیبرس سے ہوئی تو وہ اسے قاہرہ سلطان کے دربار میں لے گیا۔ سلطان الملک صالح نے کئی لاوارث لڑکے اپنی کفالت میں لیے ہوئے تھے۔ ان لڑکوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی جاتی خوراک کا خیال رکھا جاتا اور سخت جنگی تربیت کے مراحل سے گزارا جاتا۔ اس طرح یہ لڑکے سلطان کے وفادار بن جاتے اور سلطان کے ذاتی فوج میں شامل کرلیے جاتے۔ (یہی طریقہ بعد میں ترکوں نے اختیار کیا اور عثمانی سلاطین کی مشہور زمانہ افسانوی شہرت کی حامل فوج ’’ینی چری‘‘ ایسے ہی غلام لڑکوں پر مشتمل ہوتی تھی) محمود براہ راست سلطان مصر کی زیرِ نگرانی تربیت پاکررکن الدین بیبرس کے نام سے مصر کی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی لیاقت اور مہارت کے سبب مصری فوج کا سالار شمار ہونے لگا۔

 معرکہ عین جالوت

مصر شام اور فلسطین کے سرحدی علاقوں پر مشتمل عین جالوت کا میدان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میدان کو عین جالوت اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت  ظالم و جابر بادشاہ کو شکست دی تھی۔ اس معرکہ آرائی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ بیان کیا ہے،

ترجمہ:- ’’ اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا اسے سکھایا۔ ‘‘

(البقرۃ : آیت نمبر:251)۔

عین جالوت کے معنی ’’جالوت کا چشمہ‘‘ کے ہیں ، 

اس علاقے میں اب ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔ اس وقت مصر کا حاکم مملوک سلطان سیف الدین قطز تھا اور رکن الادین بیبرس اس کا سپہ سالار ۔ سلطان قطزکی فوج کسی بھی طرح تین لاکھ کے لشکر جرار کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی اور اب مصر کی شکست کا مطلب تھا کہ ہلاکو خان کی رسائی حجاز مقدس کے شہروں اور حرمین شرفین تک ہوجاتی اور پھر مراکش، شمالی افریقہ کے مسلم علاقے اور پھر اندلس۔

مگر اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو بچالیا۔ ایک معجزہ رونما ہوا اور ہلاکو خان کو اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ لے کر قراقرم واپس جانا پڑا ۔ قراقرام کے چوتھے خاقان اعظم منگو خان کا انتقال ہوگیا اور دنیا بھر سے تاتاری شہزادے قراقرم کے مرکزی جرگے جسے قرولتائی کہا جاتا تھا اس میں شرکت کرنے کیلئے قراقرم روانہ ہوگئے۔ ہلاکو خان نے اپنے نائب کتبغا خان کو بیس ہزار کا لشکر سونپ کر واپس قراقرم کی راہ اختیار کی۔

تاتاریوں کی طرف سے ایک خط قطز کو لکھا گیا تھا، یہ خط ہلاکو خان کی طرف سے لکھا گیا تھا یاکتبغا خان کی طرف سے اس بارے میں تاریخ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ تاتاری سفیر نے یہ خط سلطان قطز کو پیش کیا۔

’’یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا آقا ہے کہ اپنی پناہ گاہیں منہدم کردو، اطاعت قبول کرلو، اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلندو بالا اور جاودانی آسمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘

غالب امکان ہے کہ خط ہلاکو خان نے قراقرم روانگی سے قبل بھیجا تھا جس میں صاف انداز میں اعلان جنگ کیا گیا تھا۔ تاتاری سفیر نے رعونت آمیز انداز میں یہ خط سلطان مصر کے سامنے پھینک دیا۔ یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر اور رکن الدین بیبرس کی آنکھیں غصے کے عالم میں سرخ ہوگئیں۔ سلطان کو خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے گئے تو سلطان نے سفیر سے کہا کہ ہمارا ہلاکو خان سے کوئی جھگڑا نہیں لہٰذا اسے چاہیے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ کر واپس چلا جائے اس پر سفیر نے جواب دیا،

’’تو گویا چاہتے ہو کہ تمہارا بھی وہی حشر کیا جائے جو ہم تمہارے خلیفہ کا کرکے آئے ہیں جان لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘

تاتاری سفیر کا یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے کہا۔۔۔،

’’ان تاتاریوں کی زبانیں گدی سے کھینچ کر انہیں قتل کردیا جائے ہمارے طرف سے خط کا جواب یہی ہے‘‘

عین جالوت کے میدان میں منگول سالار کتبغا خان اپنے لشکر کے ساتھ مقیم تھا کہ سلطان قطز اور امیر رکن الدین بیبرس افواج مصر کے ساتھ آموجود ہوئے۔ ہلاکو خان کی روانگی کے بعد دونوں لشکروں میں عددی توازن تقریباً برابر ہوگیا تھا کیونکہ تاتاری لشکر کا بڑا حصہ ہلاکو خان اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ عملی طور پر افواج کی کمان رکن الدین بیبرس کے پاس تھی۔ بیبرس تاتاریوں کے قصے سن کر کہا کرتا تھا کہ

’’وقت آنے دو ہم ان وحشیوں کو بتادیں گے کہ صرف وہ ہی لڑنا نہیں جانتے بلکہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اِن کی گردنیں دبوچ سکتے ہیں۔‘‘

کتبغا خان کو ہلاکو خان کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ اس کی واپسی تک اسی جگہ قیام کرے اور مصر پر ہرگز حملہ آور نہ ہو۔ امیر رکن الدین بیبرس کو جب ہلاکو خان کی واپسی کی اطلاع ملی تو اس نے سلطان قطز کو فوراً منگولوں پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح باقاعدہ طور پر آگے بڑھ کر رکن الدین بیبرس نے منگول لشکر پر حملہ کردیا۔ عین جالوت کی اس تاریخ ساز جنگ میں رکن الدین بیبرس نے تاتاریوں پر ان کا اپنا طریقہ حرب استعمال کیا۔ اس نے اپنے چند دستے ایک گھاٹی میں گھات لگا کر بٹھادیے۔ بیبرس نے ابتدائی طور پر پسپائی کا انداز اختیار کیااور منگول اس کی چال میں آکر گھاٹی میں پھنس گئے۔ گھات لگا کر دشمن کو تنگ جگہ لاکر پھنسانا یہ تاتاریوں کا اپنا انداز جنگ تھا جو رکن الدین بیبرس نے خود ان پر استعمال کیا ، اور ماضی کی فتوحات کے نشے میں سرشار کتبغا خان بیبرس کی چال میں آگیا۔ گھاٹی میں گھات لگائے محفوظ مصری دستے نے منگولوں کو تحس نحس کردیا۔ منگول لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ دو اطراف سے مسلمانوں میں گھر گئے۔ بیبرس نے منگول فوج کا قتل عام کیا اور انہیں اس بری طرح سے مارا کہ تاریخ میں اس سے پہلے تاتاریوں کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ کتبغا خان بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور بیبرس نے اسے قتل کردیا۔ منگول لشکر مکمل طور پر قتل یا گرفتار ہوگیا تھا۔ مقتول سالار کتبغا خان کی لاش کی نمائش قاہرہ کی گلیوں میں تاتاری قیدیوں کے ساتھ کی گئی اور بعد ازاں ان قیدیوں کو بھی قتل کردیا گیا۔

معرکہ عین جالوت کے نتائج

عین جالوت کے میدان میں تاتاریوں کی شکست کی خبریں شام اور فلسطین کی منگول مقبوضات میں آگ کی طرح پھیل گئیں مسلمانوں نے منگول حاکموں کے خلاف بغاوت کردی اور جگہ جگہ سے خبریں آنے لگیں کہ مسلمانوں نے تاتاریوں سے شہر واپس لینے شروع کردیے ہیں، اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے شام اور فلسطین کی اکثر مقبوضات منگول تسلط سے آزاد ہوگئیں اس طرح منگولیا سے اٹھنے والی کالی آندھی چالیس سال تک مظلوم مسلمانوں کا خون پی کر عین جالوت کے میدان میں رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

 اگرچہ اس کے بعد بھی تاتاریوں نے مسلمانوں کے علاقوں پرکئی حملہ کیے مگر ان کے ناقابل شکست رہنے کا تاثر ختم ہوگیا تھا اور اب مسلمان ہر جگہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے تھے، ہندوستان پر مسلسل تاتاری حملے اور خلجی ترکوں کا کامیاب دفاع اس کی ایک روشن مثال ہے۔

رکن الدین بیبرس کا مصر کے تخت پر قبضہ کرنا

مملوک سلاطین میں جانشینی کا کوئی نظام نہیں تھا بلکہ طاقتور امیر ہی حاکم اور سلطان بن جاتا تھا معرکہ عین جالوت سے قبل سلطان مصر سیف الدین قطز  اور رکن الدین بیبرس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ فتح کے بعد شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقے بیبرس کے تصرف میں دے دیے جائیں گے مگر بعد میں سیف الدین قطز مکر گیا اور اس طرح قطز اور بیبرس کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی اور معرکہ عین جالوت کے چند دنوں بعد ہی پراسرار طور پر سلطان قطز قتل کردیا گیا اور رکن الدین بیبرس سلطان مصر بناگیا سلطان قطز کے پراسرار قتل میں تاریخ میں سلطان بیبرس کا نام مشکوک انداز میں لیا جاتا ہے۔

ہلاکو خان کا انجام

سقوط بغداد کے حوالے سے ہلاکو خان کو تو اکثر قارئین جانتے ہونگے میں مگر اس مرد خونخوار کا انجام کیا ہوا؟ منگول قرولتائی سے فارغ ہوکر ہلاکو خان واپس لوٹ آیا وہ سلطان بیبرس سے انتقام لینے کیلئے بے چین تھا دوسری طرف قدرت کا قانون حرکت میں آچکا تھا اس دفعہ تاتاریوں کو ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے شکست کھانا تھی بخارا کی خانقاہ کے شیخ سیف الدین ایک صوفی بزرگ تھے اور ان کی کوششوں سے چنگیز خان کا ایک دوسرا پوتا اور جوجی خان کا بیٹا برکی خان مسلمان ہوگیا قبل اس کے کہ ہلاکو خان سلطان بیبرس سے بدلہ لیتا اور حجاز مقدس کی طرف پیش قدمی کرتا برکی خان کی سربراہی میں ایک منگول لشکر اس کے سامنے آگیا اس طرح چنگیز خان کے دو پوتے آمنے سامنے آگئے اور برکی خان کے ہاتھوں ہلاکو خان کو شکست ہوگئی اور اس شکست کے صدمے سے تاب نہ لاکر وہ ہلاک ہوگیا۔

🌹اس پر علامہ اقبال نے اپنا مشہور زمانہ شعر کہا🌹.

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسبان مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے.

بیبرس اور نویں صلیبی جنگ

سلطان رکن الدین بیبرس کو نویں اور آخری صلیبی جنگ کا ہیرو بھی تسلیم کا جاتا ہے، منگولوں سے فارغ ہوکر اس نے شام فلسطین اور مصر کی عیسائی مقبوضات کی طرف توجہ دی اور ایک کے بعد ایک عیسائی علاقوں کو فتح کرنا شروع کیا فرانس کا شہنشاہ لوئی نہم ’’یرو شلم ہمارا ہے‘‘ کے نعرہ لگاتا ۔

یورپ کی صلیبی افواج نائٹس اور ٹیمپلرس کو ساتھ لیے مصر پر حملہ آور ہوگیا۔

 سلطان رکن الدین بیبرس نے یہاں بھی شہنشاہ لوئی نہم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور صلیبوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کردیا فرانس کا شہنشاہ لوئی نہم بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا اور بعد میں اسے کثیر رقم کے عوض رہا کیا گیا۔ اس صلیبی جنگ کے بعد دوبارہ یورپی افواج صلیبی جنگ کے نام پر عالم اسلام پر حملہ آور نہیں ہوئیں اس طرح اسے آخری صلیبی جنگ کہا جاتا ہے۔

یعنی منگول یلغار اور صلیبی جنگیں دونوں کا خاتمہ سلطان رکن الدین بیبرس اور برکے خان کے ہاتھوں سے ہوا۔

خلافت عباسیہ کا احیاء

سلطان رکن الدین بیبرس کا ایک اور انمول کارنامہ جو اکثر لوگوں کے علم میں نہیں وہ خلافت عباسیہ کا احیاء ہے۔ سقوط بغداد کے بعد عالم اسلام خلافت جیسی مرکز یت سے محروم ہوچکا تھا۔ عالم اسلام پر سکتہ طاری تھا کہ خلافت کے خاتمے کے بعد اب اسکا احیاء کیسے اور کس کے ہاتھوں ہوگا۔ 

اللہ تعالیٰ نے اس مبارک کام کیلئے بھی سلطان رکن الدین بیبرس کا انتخاب کیا خلیفہ ظاہر کا ایک بیٹا ابوالقاسم احمد منگول قید سے رہا ہوکر مصر آگیا سلطان بیبرس اسے قاہرہ لے آیا اور اس وقت کے مشہور عالم دین عزیز الدین عبدالسلام کے سامنے ابوالقاسم کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرتے ہوئے خلافت عباسیہ کا احیاء کیا۔ 

اس طرح عالم اسلام کو خلافت عباسیہ مصر کے روپ میں مرکزیت حاصل ہوگئی۔ اگر چہ یہ خلافت برائے نام ہوتی تھی اور اقتدار مملوک سلطان کے پاس ہی ہوتا تھا مگر پھر بھی خلیفہ کو عالم اسلام میں ایک احترام حاصل تھا یہ خلافت عثمانی ترکوں کے ہاتھوں مصر کی فتح تک قائم رہی اور پھر بعد میں خلافت کا ادارہ عثمانی ترکوں کو منتقل ہوگیا۔

اس کے علاوہ سوڈان کے عیسائی بادشاہ ڈیوڈ کو بھی سلطان بیبرس نے شکست سے دوچار کیا اور قلعہ الموت کے باطنی حشیشین فدائیوں کے خلاف بھی سلطان بیبرس نے حملے کیے۔

وفات

عالم اسلام کا یہ عظیم سالار اور مجاہد اعظم1277ء میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا منگول سیلاب سے حرمین شرفین کی حفاظت، فرانس کے شہنشاہ سے بیت المقدس کا دفاع اور بغداد کی تباہی کے بعد خلافت اسلامیہ کا دوبارہ احیاء سلطان رکن الدین بیبرس اور برکے خان کے وہ سنہری کارنامے ہیں ، جو اسے ہمیشہ تاریخ اسلام میں زندہ جاوداں رکھا۔Owais Raza Okarvi محمد اویس رضا اوکاڑوی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top